مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ادارہ برائے جوہری توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کوہ کلنگ پر مسلسل حملے کی دھمکیاں دینا، جبکہ اس سے قبل دیگر مقامات پر حملوں کے حوالے سے بھی مختلف دھمکیاں دی جا چکی ہیں، ان کی واضح بے بسی کی علامت ہے۔
رشیا ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی نے مزید کہا کہ اسی دوران عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی بھی ہمارے دشمنوں کے ایک کارندے اور فرمانبردار پیروکار کی طرح کام کر رہے ہیں اور عملاً انہیں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گروسی کا یہ اقدام بین الاقوامی اداروں کے اختیارات کا ناجائز استعمال ہے، جس سے ان اداروں کی ساکھ اور قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ اس سے اقوام متحدہ کے منشور اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی سنگین کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔
ادارے کے سربراہ نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے اس طرح کے دوہرے معیار کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوہرا معیار اس قدر نمایاں ہوچکا ہے کہ اب اسے کھلے عام نافذ کیا جا رہا ہے۔
اسلامی نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل جائے گا، کہا کہ یہ ایک اہم اور وسیع تر فیصلہ ہے، جو ملک کے اعلیٰ اختیاراتی اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ملک اپنے فیصلے ایک وسیع تر تزویراتی تناظر میں کرتا ہے، جن کی بنیاد قومی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضے ہوتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ